Saturday, July 27, 2019
Dirilis_s_2_Episode_78
Dirilis_s_2_Episode_78
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_77
Dirilis_s_2_Episode_77
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Thursday, July 25, 2019
Dirilis_s_2_Episode_76
Dirilis_s_2_Episode_76
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Wednesday, July 24, 2019
Dirilis_s_2_Episode_75
Dirilis_s_2_Episode_75
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_74
Dirilis_s_2_Episode_74
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_73
Dirilis_s_2_Episode_73
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Tuesday, July 23, 2019
Dirilis_s_2_Episode_72
Dirilis_s_2_Episode_72
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_71
Dirilis_s_2_Episode_71
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Monday, July 15, 2019
Dirilis_s_2_Episode_70
Dirilis_s_2_Episode_70
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_69
Dirilis_s_2_Episode_69
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_68
Dirilis_s_2_Episode_68
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_67
Dirilis_s_2_Episode_67
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_66
Dirilis_s_2_Episode_66
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_65
Dirilis_s_2_Episode_65
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_64
Dirilis_s_2_Episode_64
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_63
Dirilis_s_2_Episode_63
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_62
Dirilis_s_2_Episode_62
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Sunday, July 14, 2019
Dirilis_s_2_Episode_61
Dirilis_s_2_Episode_61
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_61
Dirilis_s_2_Episode_61
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Thursday, July 4, 2019
Dirilis_s_2_Episode_60
Dirilis_s_2_Episode_60
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_59
Dirilis_s_2_Episode_59
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Wednesday, July 3, 2019
Dirilis_s_2_Episode_58
Dirilis_s_2_Episode_58
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_57
Dirilis_s_2_Episode_57
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_56
Dirilis_s_2_Episode_56
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_55
Dirilis_s_2_Episode_55
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Dirilis_s_2_Episode_54
Dirilis_s_2_Episode_54
ترکی کا ارتغل ڈرامہ:
ارتغل فقط ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سحر ہے جو مسحور کر دیتا ہے ،یہ ایک طلسم ہے جو جکڑ لیتا ہے ،یہ مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر دینے والا جانباز سپاہی ہے،مغرب اس سے کتنا پریشان ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
نیویارک ٹائمز میں اسے ترکی کا سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے،کہا گیا ہے کہ اردگان اس کے ذریعےمسلمان نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں عظیم اسلامی سلطنت کے دلکش خواب دکھا رہا ہے،اس کے ذریعے ایک ایسا جذبہ پیدا کیا جارہا ہے ،جو عنقریب قیامت خیز طوفان کی صورت میں نمودار ہوگا
در اصل بات یہ ہے کہ
اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کی بزدلی اور احساس کمتری کو ختم کیا جا رہا ہے ،انہیں اپنی تھذیب پر فخر کرنا سکھایا جا رہا ہے ،صوفیاء کرام سے تعلق قائم کرنے کیلئے انہیں محی الدین ابن عربی
کی مجالس دکھائی جا رہی ہیں،اس وقت یہ ڈرامہ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جارہا ہے
میری نظر میں یہ ڈرامہ اسلامی انقلاب کا ایک عظیم داعی ہے،مسلم نوجوانوں کو ضرور یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے ،اگرچہ اس کو مکمل اسلامی ڈرامہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں بعض سین ایسے ہیں ،جو قابل اعتراض ہیں ،لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے ،دراصل یہ تاریخ ہے، اس میں جو کچھ ہوا ،وہی کچھ دکھایا گیا ہے، لیکن ایسے سین آٹے میں نمک کے برابر ہیں
اب بات کرتے ہیں کہ آخر اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا ہے
یہ ڈرامہ ترکی کے ایک خانہ بدوش قبیلے قائی پر بنایا گیا ہے ، جس کے پاس فقط دو ہزار جنگجو تھے لیکن یہ جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے،یہاں تک کہ صلیبی اور منگول بھی ان سے فکر مند رہتے تھے ،ارطغل قبیلے کے سردار سلمان شاہ کا بیٹا تھا ،یہ بے خوف اور نڈر مسلمان تھا ،یہ اسلامی اتحاد کا عظیم داعی تھا ،یہ کافروں کی ہر ایک سازش کو ناکام بنانے والا عظیم ہیرو تھا ، اس ڈرامے میں عیسائیوں کی سازشوں کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے ،عالم اسلام کی نااتفاقی بھی بڑی ایمان داری سے دکھائی گئی ہے،مسلمانوں میں چھپے غداروں کو بھی بہت احسن انداز سے دکھایا گیا ہے
اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد آپ بھی ضرور سوچیں گے کہ آخر کیوں ؟
یورپ ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر اتنا زور دے رہا ہے ،یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں سے کون کس کس طرح فائدے اٹھا رہا ہے
اگر آپ تلاش کریں گے ،تو آج بھی آپ کو اس ڈرامے کے کردار جگہ جگہ نظر آئیں گے
اس ڈرامے کے متعلق کیے گئے پروپگنڈے کے متعلق طیب اردگان نے فقط ایک جملہ کہا تھا
جب تک شیر خود اپنی تاریخ نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے
Subscribe to:
Posts (Atom)